Friday, 19 September 2014

**سنو اے ظالمو اے جابرو اے قاتلو!**



**سنو اے ظالمو اے جابرو اے قاتلو!**
سنو جنت کی ٹکٹیں بانٹنے والو
جہنم منتظر ہے
سنو نردوش لوگوں کے لہو کو چاٹنے والو
جہنم منتظر ہے
سنو اے ظالمو اے جابرو اے قاتلو
بہت ہی شوق ہے تم کو
گلے کو کاٹ دینے کا
تمہیں بارود کی بدبو سے
حد درجہ عقیدت ہے
تم اکثر خواب میں جنت کی چلتی ریل گاڑی سے
لپکنے کی بہت کوشش تو کرتے ہو
مگر وہ چھوٹ جاتی ہے
تم اپنے سامنے رکھا ہوا کھانا
من و سلوی سمجھتے ہو
خیالوں میں نہر سے دودھ پیتے ہو
مگر سن لو
تمہارا وہم ہے سارا
تمہارے واسطے دوزخ سجائی جا چکی ہے
جہنم کا داروغہ ہاتھ میں چابک لیئے
رستہ تمہارا دیکھتا ہے
سنو اے ظالمو اے جابرو اے قاتلو!
اگر تم سن سکو تو غور سے سن لو
تمہاری گردنیں بھی ایک دن کٹنے ہی والی ہیں
ذرا سوچو!
تمہاری بیویاں بیوہ بنی کیسی لگیں گی
تمہاری لاش پر ماتم کناں مائیں بھلا کیسی لگیں گی
تمہارے ننھے بچوں سے یتیمی کا سفر کیسے کٹے گا
ہمارا جو نہیں تو اپنے گھر کا ہی ذرا سوچو
ذرا سوچو
ذرا سوچو
خدا کے واسطے جنگ و جدل کا راستہ چھوڑو
گریباں ہے تمہارا تو ذرا سا جھانک کر دیکھو
خیالوں میں نہر سے دودھ پیتے ہو
صف_ماتم بھی آنگن میں ذرا اپنے بچھی دیکھو
ارے اے ظالمو اے جابرو اے قاتلو......
شاعر**احمدنعیم ارشد

No comments:

Post a Comment