Thursday, 17 April 2014






حضرت نوح علیہ السلام ایک مدت تک لوگوں کو اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے رہے، مگر کم ہی لوگ تھے جو ان پر ایمان لاۓ۔ آخر اللہ کے عذاب نے ان نافرمانوں کو آ گھیرا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کو حکم سے ایک کشتی تیار کی اور اپنے ماننے والوں سے کہا کہ اس میں سوار ہو جاؤ، اس کا ٹھہرنا اور چلنا اللہ کے ہی نام سے ہے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا ہے۔

پانی کا طوفان آیا اور ہر چیز کو نگل گیا، مگر وہ کشتی جس کا چپو اللہ کا نام لے کر ٹھاما گیا تھا کنارے جا لگی اور جو اس میں سوار ہوۓ تھے بچ گۓ۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے نام خط لکھا تو اس کا آغاز اللہ کے بابرکت نام سے کیا گیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے،"ہر اچھے کام کی ابتداء اللہ کے نام سے کرو۔ اس میں برکت ہو گی اور تم اللہ کی رحمتوں سے محروم نہیں ہو گے"۔

بندہ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے تو وہ اعلان کرتا ہے کہ اُس کو بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہے، اللہ اپنے بندے کی پکار سنتاہے اور اس کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ اور اس کی حاجات پوری کرتاہے۔

پس بندے کو چاہیے کہ جو بھی مانگے اللہ سے مانگے اور اچھے کام کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرۓ۔ اس سے انسان اللہ کی نافرمانی سے بچے گا۔ اور ہر قسم کے وبال اور نقصان سے محفوظ رہے گا۔ اللہ پہ اس کا ہقین پختہ ہو گا۔ اور شیطان کی چالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے قوت اور ہمت نصیب ہو گی۔

اللہ ہمیں اپنی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین

No comments:

Post a Comment